ہوناور 25؍جولائی (ایس او نیوز) فیس بک پر ایک نوجوان لڑکی کا فوٹو استعمال کرتے ہوئے اسے جنسی سرگرمی کے طور پر دکھانا یہاں کے ایک نوجوان کو مہنگا پڑا۔ جس کے نتیجے میں وہ پولیس کامہمان بن کر سلاخوں کے پیچھے پہنچ گیا ہے۔
گرفتار نوجوان کا نام گلین فرنانڈیز ہے جو کہ تارے باگیل کا رہنے والا مقامی کالج کا طالب علم ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے فیس بک پر ایک نقلی آئی ڈی بناکر اس پر ایک نوجوان لڑکی کو رسوا کرنے والی تصویر پوسٹ کردی تھی۔ مذکورہ لڑکی نے جب پولیس سے شکایت کی تواس وقت کے سرکل انسپکٹر کمارا سوامی نے کیس درج کرلیا تھا۔موجودہ سی پی آئی چیلو راج نے اس معاملے میں خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے تحقیقات شروع کی ۔بڑی مشقت کے بعد گلین فرنانڈیزکی نشاندہی کرنے میں پولیس کو کامیابی ملی۔
بتایاجاتا ہے کہ پولیس کی طرف سے اپنے خلاف کیس داخل ہونے کی خبر ملنے پر گلین نے اپنا فیس بک کا نقلی اکاؤنٹ ڈیلیٹ کردیا تھا جس کی وجہ سے ملزم کو گرفتار کرنے میں پولیس کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن پولیس نے اس معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اس کیس کو یونہی ادھورا چھوڑنے کے بجائے ملزم کو کیفر کردار تک پہنچانے کا فیصلہ کیا اور سائبر کرائم شعبے کی مدد سے اصل ملزم تک رسائی حاصل کی اور اسے پوکسو ایکٹ کے تحت گرفتار کرکے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا۔
سمجھا جاتا ہے کہ پولیس اسی طرح دلچسپی اور سرگرمی دکھائے تو سوشیل میڈیا کا غلط استعمال کرکے خاص کر لڑکیوں کی عزت و آبرو سے کھلواڑ کرنے والوں پر آئندہ روک لگے گی اور اس طرح کی شرارتیں کرنے والے اپنے مستقبل کے لئے درپیش خطرات کے بارے میں سوچ کر ایسی حرکتوں سے باز آئیں گے۔